اداکاراؤں کے بعد اب خواتین کامیڈینز نے بھی جنسی ہراسانی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ

ہالی وڈ اداکاراؤں کی جانب سے جنسی ہراسانی کے خلاف شروع کی گئی تحریک ‘می ٹو’ کے بعد اب خواتین کامیڈینز نے بھی انڈسٹری میں ‘ دہائیوں سے جاری بدسلوکی’ کے بعد کلبز اور پروموٹرز کے لیے اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اسٹینڈ اپ کامیڈین، مصنف اور طنزیہ نگار کیری پرچرڈ میک لین نے کہا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ کامیڈی سرکٹ میں ‘می ٹو ‘ تحریک (میں بھی) کا وقت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کامیڈی انڈسٹری میں ایک طویل عرصے سے خواتین کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے اور اب لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ اسے معمول نہیں بننا چاہیے۔ مزید پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

کیری پرچرڈ میک لین کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان خواتین مزاح نگاروں کو بدسلوکی سے بچانے کے لیے رہنمائی کے پروگرامز دیکھنا چاہتی ہیں۔

تحریر جاری ہے‎

دوسری جانب ایک اور خاتون کامیڈین نینا گیلیگان جو 2011 سے اس صنعت کا حصہ ہیں، نے انکشاف کیا ہے جب انہوں نے کامیڈی کا آغاز کیا تھا تو ایک شخص کی جانب سے انہیں جنسی ہراساں کیا گیا تھا جس نے انہیں کیریئر میں آگے بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔

نینا گیلیگان کہتی ہیں کہ وہ اپنے تجربے پر غصہ اور شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔

ان کے مطابق بعدازاں انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ دیگر خواتین کو بھی اسی شخص کی جانب سے ایسے تجربے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ می ٹو مہم کا آغاز دنیا بھر میں اکتوبر 2017 میں ہوا تھا جب ہولی وڈ کی نامور خواتین نے سامنے آکر پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراساں کرنے اور ریپ کرنے کے الزامات لگائے تھے اور ان پر مجموعی طور پر 100 خواتین نے الزامات لگائے تھے۔

تحریر جاری ہے‎

یہ بھی پڑھیں: ریپ مقدمے میں ہاروی وائنسٹن کو 23 سال قید کی سزا سنادی گئی

اسی حوالے سے امریکی اداکارہ ایلسا میلانو نے ٹوئٹر پر ’می ٹو‘ (MeToo#) یعنی ’میں بھی‘ کے عنوان سے ایک ٹرینڈ کا آغاز کیا تھا۔

جس کے بعد متعدد خواتین اس مہم کے ذریعے اپنے تلخ تجربات کے عوام کے سامنے لائی تھیں۔

رواں برس نیویارک کی عدالت نے 2 خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے پر پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کو 23 سال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔

تحریر جاری ہے‎

اپنا تبصرہ بھیجیں