لاک ڈاؤن وفاقی قوانین کے خلاف نہیں، پنجاب حکومت

اسلام آباد: پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ پنجاب متعدی امراض (روک تھام اور کنٹرول) آرڈیننس 2020 کے تحت نافذ جزوی طور لاک ڈاؤن آئین کی وفاقی قوانین کی فہرست (ایف ایل ایل) کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور وبا کو روکنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے ایک رپورٹ میں کہا کہ درحقیقت یہ وفاقی حکومت تھی جس نے صوبوں کو ایسی قانون سازی کرنے کی ترغیب دی تھی جو صوبائی قانون سازی کی اہلیت میں نہ آنے والی چیزوں اور علاقوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے تاہم قانون کا سب سے بڑا اعتراض وہ کورونا وائرس کے کیسز کو حراست میں لینا تھا۔

پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شان گل نے وفاقی قوانین کی فہرست کے تحت وفاقی حکومت کے ٹیکس لگانے کی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈالنے والی کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کے قانون سازی کرنے پر صوبوں کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے سوال کے جواب میں یہ رپورٹ پیش کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ ججوں کا بینچ آئندہ روز دوبارہ کیس کی سماعت کرے گا۔

تحریر جاری ہے‎
مزید پڑھیں: پنجاب میں لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک توسیع، ہفتے میں 4 دن کاروبار کھولنے کی اجازت

جسٹس مشیر عالم، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس قاضی محمد امین احمد اس بینچ کے دیگر اراکین ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس سجاد علی شاہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سردار مسعود کو بینچ میں شامل کیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت کے علاوہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان حکومتوں کے ساتھ ساتھ وفاقی وزارت صحت نے بھی اس ہی طرح کی رپورٹس جمع کرائیں۔

جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے جواز پیش کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے موقف اپنایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے اپنے ایک اجلاس میں عوام میں سماجی فاصلوں کو یقینی بنانے کے لیے کاروبار اور تجارت پر جزوی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے اور یہ ایف ایل ایل کے فورتھ شیڈول کے پارٹ 1 کے اینٹری نمبر 19 کے تحت کیا گیا تھا جبکہ این سی او سی میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ صوبہ اپنے طور پر کام کررہا ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک بامقصد اور مشاورتی عمل کے نتیجے میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے لیے صوبائی آرڈیننس 2020 نافذ کیا گیا تھا‘۔

اس کے علاوہ وبائی بیماریوں کا ایکٹ 1897 – وبائی بیماریوں یا آفات سے متعلق ایک وفاقی قانون، خود صوبوں کو وبائی امراض کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے عارضی ضوابط لاگو کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب نے تجارت اور کاروبار کے حوالے سے جزوی طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان نہ صرف قانون سازی کی اہلیت کے تناظر میں جائز تھا بلکہ اسے موجودہ وفاقی قانون کی حمایت بھی حاصل تھی۔

اس طرح اس کارروائی کو وفاق اور صوبوں کی متفقہ حمایت حاصل ہے کیوں کہ این سی او سی نے اس طرح کے عمل کی منظوری دے دی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبوں نے لاک ڈائون لگا کر قانون سازی کی اہلیت سے تجاوز نہیں کیا بلکہ انہوں نے آئین کے مینڈیٹ کا احترام کیا۔

لوگوں کی صوبے کے اندر نقل و حرکت پر مکمل پابندی کے علاوہ رکشہ اور چنگچی کے ذریعہ سفر کی اجازت دینے کے ذریعے بھی مکمل پابندی کو کم کیا گیا تھا تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کی دیگر بڑی گاڑیوں کے لیے حکومت کے ساتھ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نمائندوں کا اجلاس ترتیب دیا گیا تھا۔

صوبائی قانون سازی کرنے سے پہلے صدر سے رضامندی حاصل کرنے کے تقاضے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 116 کے تحت گورنر کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 151 (4) کے تحت صدر سے رضامندی حاصل کرنے کی صوبائی حکومت کی ناکامی کی اجازت ہے۔

زکوٰۃ فنڈ میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بارے میں پنجاب حکومت نے وضاحت کی کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا بنیادی اعتراض قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، معمولی غلطیاں اور ریکارڈ کی عدم تیاری کے بارے میں تھا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ عوامی وسائل کا دھوکہ دہی، غبن، چوری اور غلط استعمال کا کوئی کیس نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 2 مئی کو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان (اے جی پی) نے انکشاف کیا تھا کہ سال 2019۔20 کے محکمہ زکوٰۃ اور پاکستان بیت المال کے لیے مجموعی طور پر 5 ارب 96 کروڑ روپے کے فنڈز کا آڈٹ ہونے پر 3 ارب 67 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں