عالمی یوم خواتین


تحریر: سید وقار جاوید نقوی
اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو معاشرے میں اہم ترین مقام دیا، لڑکیوں کو زندہ درگورکرنے کی قبیح رسومات کا خاتمہ کیا تو ساتھ ہی اسے جائیداد میں حصہ کا حقدار ٹھہرایا، مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔دین اسلام کی انہیں تعلیمات کے عملی نفاذ کیلئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں ہی عملی اقدامات اٹھائے۔ آپ ﷺ کی حدیٹ مبارکہ ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے دین اسلام میں خواتین کے بلند مقام کی غماز ہے، آپﷺ نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم کا خاتمہ کیا تو ساتھ ہی اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کیلئے اپنی چادر مبارک بچھا کر بیٹیوں سے محبت کا عملی درس بھی دیا۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا، حضرت فاطمہ، سلام اللہ علیہا، حضرت ام سلمی رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا، کربلا کے میدان میں حضرت زینب سلام اللہ علہیا، حضرت ام کلثوم، سیدہ ام فروہ، سید رباب، سید فاطمہ کبری، سیدہ سکینہ سلام اللہ علہیم عنہما، اور اہلبیت اطہار سے تعلق رکھنے والی خواتین، انکی کنیز جناب فضہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ تاریخ پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید وہ نامور خواتین ہیں جنکے ذکر کے بغیر تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ جدید ترقی یافتہ دنیا نے بھی خواتین کی اہمیت کو تسلیم کیا، انہیں ہر میدان میں ترقی کے مواقع اور حقوق دیے اور آج ترقی کی عظیم منازل طے کر چکی ہیں۔ انہیں خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آج 8 مارچ 2020ء کو 111واں عالمی یوم خواتین منایاجا رہا ہے۔ جدید دنیا میں خواتین کے حقوق کا پہلا عالمی دن 28 فروری 1909ء کو امریکہ میں منایا گیا تھا۔ اس دن کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب امریکہ کے شہر نیو یارک میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین نے طویل اوقات کار اور کم تنخواہوں پر احتجاج کیا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کی ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کی جائے اور معقول تنخواہ دی جائے۔ یہ احتجاج جاری رہے لیکن قابل ذکر احتجاج 1908ء میں کیا گیا تقریباً پندرہ ہزار خواتین نے کیا کا مطالبہ یہ تھا کہ عورت کو مکمل حقوق دئیے جائیں۔ 1910ء میں پہلی خواتین کانفرنس کوپن ہیگن میں ہوئی جس میں عورتوں کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا اس کے بعد دوسری خواتین کانفرنس معروف جرمن سوشلسٹ کلیرا ڈینکن نے کی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے سو سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ 1917ء میں روس میں سیاسی انقلاب برپا ہوا اور روس نے عالمی یوم خواتین کو تعطیل کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ روس، بلغاریہ بوسنیا، البانیہ، امریکہ، کیوبا، چین، اٹلی، ازبکستان اور مختلف ملکوں میں آٹھ مارچ کو چھٹی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ کو ہر سال خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن مختلف تنظیمیں اور این جی اوز تقریبات اور ریلیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی حالت میں بہتری کے لئے تجاویز دینے کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی توجہ دی ہے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت نے ترقی کے سفر میں خواتین کو شانہ بشانہ رکھا اور آج انکی ٹیم میں ڈاکٹر شریں مزاری،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت متعدد خواتین اعلی ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ صوبہ پنجاب  میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات پر نظر ڈالی جائے تو ریکارڈ قانون سازی اور عملی اقدامات کے نتیجے میں آ ج ہر شعبہ میں خواتین کی موجودگی واضع طور پر نظر آئے گی اور انکا کردار لیڈنگ رول میں تبدیل ہو چکا ہے۔ زینب الرٹ بل ہو یا صوبے میں حقوق نسواں کے قوانین، بچیوں کی شرح خواندگی میں اضافہ، خاتون محتسب ادارے کا فعال ہونا، وراثت کا تحفظ، بچیوں کو فنی تعلیم کے ذریعے معاشی لحاظ سے خود مختار بنانے سمیت ہر نوعیت کے اقدامات کے ثمرات معاشرے کے سامنے نظر آتے ہیں۔ مردم شماری اور دیگر مصدقہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو وطن عزیز کی  آبادی کا 51 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے، اگر اس غالب آبادی کو جدید تعلیم و تربیت اور علوم و فنون سے آراستہ کر کے ملکی تعمیر و ترقی میں شامل کیا جائے تو ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ معاشرے میں ترقی خواتین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح قیام پاکستان میں عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا اسی طرح ملکی ترقی کے لئے خواتین کو آگے لانا ہو گا۔مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیّے ہیں ظاہر ہے کہ جب تک گاڑی کے دونوں پہیّے صحیح طور پر کام نہ کریں یہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ کوئی معاشرہ اور قوم اس وقت تک شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتی۔ جب تک مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔داناؤں کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے بچہ جو کچھ اس درس سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا از حد ضروری ہے۔ مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہوتی ہے مگر عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ ایک عورت تعلیم حاصل کرکے جہاں اپنے خاندان کا مالی بوجھ بانٹ سکتی ہے تاہم اگر وہ
 گھر داری کو ہی ترجیح دے تب بھی اسکا کردار معاشرتی اصلاح کے لئے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ ضلع گجرات میں خواتین کے کردار پر نظر دوڑائی جائے تو چند ہفتے قبل تک ضلعی جج کا منصب نہایت با صلاحیت عظمی اختر چغتائی کے پاس تھا، موجودہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ڈاکٹر رانی حفصہ کنول انتظامی شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں تو انیشہ ہشام اے سی سرائے عالمگیر کے منصب پر فائز ہیں۔ گجرات کے معروف سیاسی گھرانے چوہدری فیملی کی خواتین میں باجی سمیراالہی نے گزشتہ الیکشن میں چیئرمین ضلع کونسل کا الیکشن لڑاور بھرپور مقابلہ کیا اسکے ساتھ ایم این اے تاشفین صفدر، ایم پی اے خدیجہ فاروقی بھی نہایت متحرک و فعال ہیں۔ گجرات کے تعلیمی میدان پر نظر دوڑائی جائے تویونیورسٹی آف گجرات میں 80فیصد کے لگ بھگ سٹوڈنٹس خواتین ہیں جبکہ سرکاری سطح پر گورنمنٹ ہائی سکولز فار گرلز کی تعداد بوائز ہائی سکولوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ سرکاری سکولوں، کالجوں میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد بھی طلبہ کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو چکی جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اہل گجرات اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں نہایت حساس ہیں اور وہ انہیں اپنے بیٹوں کیطرح زیور تعلیم سے آراستہ کر نے میں کوئی کوتاہی کرنے کو تیار نہیں۔ ضلع گجرات میں سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام صنعت، ٹیوٹا کے زیر اہتمام محمودہ عاجز ووکیشنل ٹریننگ سنٹر بھی خواتین کو جدید فنی تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ضلع گجرات صوبہ پنجاب کا واحد ضلع ہے جہاں زچہ و بچہ کی صحت کے لئے گجرات، منگوال سمیت متعدد علاقوں میں مکمل گائنی ہسپتال موجود ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد گجرات کی سیاسی قیادت کی معاونت سے 1000بیڈ کے اسٹیٹ آف دی آرٹ زچہ و بچہ ہسپتال کے قیام کیلئے تجاویز حکومت پنجاب کو بھجوا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں